دانش محل : کتابوں کا تاج محل

دانش محل کے قیام کے ساتھ ساتھ ایک ’ بزم دانشوراں ‘ بھی قائم کی گئی۔ پروفیسر نورالحسن ہاشمی، حامد اللہ افسر اور فرقت کا کوری اس کے عہدے داران واراکین منتخب کے گئے۔ بزم کے تحت ہفتہ وار جلسے ہوتے تھے ،جس میں مقامی وبیرونی ادباء دانشور ، اپنی تخلیقات اور مقالے پڑھتے تھے۔ دانش محل اور بزم دانشوراں کی حوصلہ افزائی کرنے والوں میں علامہ سید سلیمان ندوی ،مولانا حسرت موہانی ، احسان دانش، ظفرعمر ، اختراور ینوی، مجنوں گور کھپوری، اختر انصاری ، حفیظ سید ، ڈاکٹر اعجاز حسین ،ساغر نظامی، پروفیسررالف رسل وغیرہ شامل تھے۔

دانش محل ایک ادارہ ہی نہیں ایک تہذیب کا نام ہے۔ قدیم فن ِتعمیر پر مشتمل ایک کشادہ اور ہال نماو سیع وعریض اس دکان میں کتابیں ریک میں بڑے سلیقے سے رکھی گئی ہیں۔ کتابوں کی ریک کے اوپر دیواروں میں عظیم علماء ، ادباء شعراء اور دانشوروں کی تصویریں آویزاں ہیں ، جن پر ان کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات بھی درج ہے۔ اس سلیقے مندی اور تزئین کاری سے دکان کا منظر انتہائی حسین نظر آتاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *