دانش محل : کتابوں کا تاج محل

اس سلسلے میں دانش محل کو اپنی اعزاز ی خدمات دینے والے منظور پر وانہ کہتے ہیں:
’’لیکن ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخر اردو کے تمام ادارے کیوں بند ہوگئے؟ اگر محبان اردو ان کی سرپرستی کرتے اوروہاں نفع بخش کاروبار ہوتا تو کیا تب بھی وہ ادارے بند ہوجاتے ؟ اس لئے اردو قارئین کے لئے یہ لمحہ فکر یہ ہے کہ انھیں بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے۔ صرف کف ِ افسوس ملنے سے کچھ ہونے والانہیں‘‘۔

دانش محل کے موجودہ مالک محمد نعیم کو تھوڑا مالی نقصان ضرور ہورہاہے لیکن اردو دنیا کوان سے بڑا فائدہ ہورہاہے۔ آج بھی دانش محل لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے اور اس کی تہذیبی قدریں کسی حدتک بر قرار ہیں۔ یہاں ہونے والی علمی وادبی بحث سے لوگوں کو کافی فائدہ پہنچتا ہے۔ اس طرح اس کی حیثیت ایک درس گاہ کی بھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *