دانش محل : کتابوں کا تاج محل

پھر ایک دن وہ بھی آگیا کہ مخصوص فکر ونظر اورروایات کا حامل دانش محل قائم ہوگیا اور اس طرح اردو کے ممتاز علماء اور ادباء کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگیا۔ نسیم صاحب کے اس ادارے کا افتتاح مولوی عبد الحق نے کیا۔ افتتاحی تقریب میں مولانا آزاد سجانی ، سید ہاشمی فیروز آبادی ، مولوی بشیر الدین، مولانا احمد الدین، مولانا ظفر الملک ، پروفیسر احتشام حسین اور ڈاکٹر عبادت بریلوی خاص طور سے موجود تھے۔

ضمیر مینشن میں واقع اس ادارے کا قیام اصلاً1939میں عمل میں آیاتھا۔ اس وقت یہ مکتبہ کی ایک شاخ کی حیثیت رکھتا تھا۔ پھر 1942میں مولوی عبد الحق کے مشورے پر نسیم صاحب نے ایجنسی کو کتابوں کی دکان میں تبدیل کر دیا اور اس کا نام رکھا ’دانش محل ‘۔ دانش محل کا نام اپنی خصوصیات اور روایات کی وجہ سے اردو زبان وادب اور تہذیب کی تاریخ میں درج ہوچکاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *