دانش محل : کتابوں کا تاج محل

دراصل شہر میں مذکورہ لوگوں کے بیٹھنے کے لئے دو جگہیں تھیں۔ ایک کافی ہاؤس ، دوسری شہرکے مختلف علاقوں میں واقع چائے خانے۔ یہ دونوں مقامات ان برگزیدہ ہستیوں کے شایانِ شان نہیں تھے۔ اسی لئے وہ فکر مند تھے کہ کوئی ایسی جگہ ضروری ہے جہاں کاماحول پر سکون او پاکیزہ ہو۔ جہاں دانشور نہ صرف ایک دوسرے سے مل سکیں بلکہ بیٹھ کر سنجیدہ ،علمی وادبی گفتگو کرسکیں۔ چھوٹی موٹی ادبی تقریب منعقد کر سکیں۔

ان ممتاز شخصیات کے غور وفکر اور تبادلہ خیالات کے بعد قرعہ فال محمد نسیم کے نام نکلا اور انھوں نے دانش محل کے قیام کابیڑا اٹھایا۔ وہی فرشتہ صفت محمد نسیم جن کے پاس مولوی عبدالحق اور علامہ سید سلیمان ندوی جیسے لوگ بیٹھ کر سکون محسوس کرتے تھے اور جوتا عمر ادیبوں ، شاعروں ، صحافیوں اور دانشوروں کے مرکز نظر رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *