دانش محل : کتابوں کا تاج محل

دانش محل بر صغیر ہندوپاک کے علاوہ سرے ممالک جیسے برطانیہ ، فرانس ، جرمنی ، امریکہ ، روم ، مصر، ایران ، عرب، عراق، شام اور انڈونیشیا وغیرہ میں بھی کافی مقبول ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ نسیم صاحب کی ایمانداری اور جانفشانی ہے۔ اگر کہیں سے کتاب کا آرڈر آجاتا تو اسے فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کرتے ۔ اگر وہ کتاب ان کے پاس نہ ہوتی تو دوسری جگہ سے منگا کر بھیجتے۔ اس میں ان کی صرف کاروباری ذہنیت نہیں کار فرماہوتی بلکہ اسے ایک جذبے اور مشن کے تحت انجام دیتے۔

لندن یونیورسٹی کے سابق پروفیسر رالف رسل نے 1965میں دانش محل اور نسیم صاحب کے بارے میں لکھا تھا:
”Not only is Danish Mahal well-stocked and well-arranged, Naseem Ahmad’s resourcefulness in obtaining and supplying rare books is something to arouse both wonder and admiration…Danish Mahal is institution, a cultural Centre for all who love Urdu and its literature. Long may it continue to remain so”!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *