ریلی میں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہی یعنی محض دو نے شرکت کی اور راکاپوشی تک ہمت نہیں ہاری۔ ریلی کے آغاز کا وقت بھی دوپہر دو بجے سائیکل چلانے والوں کے لیے دل میں کوئی نرم گوشہ نہ رکھنے والے سورج نے انتہائی مشکل بنا دیا۔ امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ وی آئی پیز کی خاطر اس تقریب کو لیٹ نہیں کیا جائے گا اور جتنی صبح یا ٹھنڈے پہر میں منعقد کی جائے اچھا ہے۔
پہلی مرتبہ شرکت کرنے والے شوقین افراد کے لیے معلومات کی فراہمی کہ کتنا مشکل ہے راستہ، کتنی چڑھائی یا اترائی ہے کچھ زیادہ نہیں بتایا گیا۔ منتظمین کی تمام تر توجہ محض پیشہ ور سائیکل سواروں پر مرکوز تھی۔ منتظمین کو اس ریلی میں دلچسپی بڑھانے کے لیے شوقیہ فنکاروں پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ بچوں اور خواتین کے لیے ان کی صلاحیت کے مطابق راونڈ منعقد کرنا ہوں گے۔