چنانچہ وہ اپنی قسمت آزمانے کی بھی کوشش نہیں کرتے۔ زیادہ تر طلباء واقعی آگے آنا اور مختلف سرگرمیوں میں اپنی قسمت آزمانا چاہتے ہیں مگر ان کی ویسے رہنمائی یا حمایت نہیں کی جاتی جیسے کہ کچھ بچوں کی، کی جاتی ہے۔
ایک اوسط طالبِ علم یا طالبہ کو تعلیم اور ہم نصابی سرگرمیوں میں اپنا ہنر سامنے لانے کے لیے ہمیشہ زیادہ رہنمائی اور حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ان کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے تو وہ خود سے کرنے میں بہت وقت لیتے ہیں یا پھر ممکن ہے کہ وہ کوشش بھی نہ کریں۔ ہمارے اسکولوں اور کالجوں میں چند مخصوص چہروں کا مختلف غیر نصابی سرگرمیوں میں نظر آنا بھی اسی کی ایک وجہ ہے۔
کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ کلاس کی جو اکثریت پیچھے رہ جاتی ہے، ان میں بھی کوئی ایسا اسپورٹس چیمپیئن یا ماہرِ بحث کنندہ ہوگا جس کو کبھی تربیت یا رہنمائی نہیں ملی؟ آخر ان کا کسی سرگرمی میں کوئی کردار کیوں نہیں ہوتا؟