اساتذہ اور اسکول یا اداروں کی انتظامیہ کو یہ چیز ذہن میں رکھنی چاہیے کہ انگلش ہماری مادری زبان نہیں ہے اس لیے ہمارا لہجہ امریکی یا برطانوی نہیں ہوسکتا۔ کمزور ہجوں کو زیادہ پریکٹس کے ذریعے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ مقابلے میں حصہ لینے والے ذہین ترین طلباء بھی دن اور رات پریکٹس کرتے ہیں اور آخر میں یہ کہ اعتماد ہمیشہ اساتذہ اور گھر کے بڑے افراد بڑھاتے ہیں، اُس وقت بھی جب بچوں نے بالکل بھی اچھی کارکردگی نہ دکھائی ہو۔
یہ تمام ہنر زندگی میں بتدریج پیدا ہوتے ہیں کیوں کہ تمام طلباء پیدائشی ذہین یا مباحثے میں طاق پیدا نہیں ہوتے۔ ایک شخص بحث کنندہ کیسے بنے گا اگر اسے کبھی اسٹیج پر چڑھنے کا موقع ہی نہ دیا جائے؟ کوئی اپنے ہجے کیسے بہتر بنائے گا اگر اسے پریکٹس کرنے کی یا کلاس کے سامنے آکر اپنی قسمت آزمانے کی حوصلہ افزائی ہی نہ کی جائے؟ کوئی اچھا بحث کنندہ کیسے بنے گا اگر اس کے آس پاس کے لوگ اس کی حوصلہ شکنی کریں؟