اگر اساتذہ کلاس کے صرف ذہین طلباء پر توجہ دیں گے تو اوسط طلباء کبھی بھی سامنے نہیں آئیں گے۔ وہ ہمیشہ پیچھے رہیں گے اور انہیں کبھی بھی یہ معلوم نہیں ہوسکے گا کہ حاضرین کے سامنے کھڑے ہوکر کچھ پیش کرنے کا احساس کیسا ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف اوسط طلباء (جو کہ ذہین طلباء سے تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں) کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ وہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔
میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی زیادہ ذہین یا زیادہ پُراعتماد نہیں پیدا ہوتا بلکہ یہ والدین کی جانب سے مثبت تربیت اور اساتذہ و والدین کی جانب سے حوصلہ افزائی ہے جس کی وجہ سے بچے پُراعتماد بنتے ہیں اور تیزی سے سیکھ پاتے ہیں۔
اس کے علاوہ بچے اپنی تعلیمی زندگی میں ایک اور عمومی تصور اپنا لیتے ہیں اور وہ یہ کہ چاہے وہ کچھ بھی کریں مگر ٹیچر کے پسندیدہ طالبِ علم یا طالبہ کو ہی منتخب کیا جائے گا یا جیت اسی کی ہوگی۔