ہر مرتبہ چند مخصوص بچے ہی آگے کیوں بڑھتے ہیں؟

ہم انہی ہم جماعتوں کو فخریہ انداز میں اسٹیج پر بیٹھے ججز کو کسی لفظ کے ہجے بتاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ وہی چہرے ہیں جو ہر سال دوسرے اسکولوں سے مقابلے کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ یہ سب نہایت مایوس کن اور غیر منصفانہ ہے، ہے کہ نہیں؟

 

انتخاب اس معیار پر کیا جاتا ہے کہ ’اس کام کے لیے کون سب سے بہترین ہے‘ یا پھر ’کون مخالف ٹیم کو ہرانے میں ہماری مدد کرسکتا ہے‘ لیکن کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ ’کون سیکھنے کا متمنّی ہے لیکن بغیر سپورٹ کے کوئی کیسا سیکھ سکتا ہے؟‘۔ وہ ہمیشہ یہ سوچتے ہیں کہ ’کون بہترین ہے؟‘، مگر کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ ’بدترین میں بہترین کو کیسے دریافت کیا جائے؟‘

ہر مرتبہ اوسط اور آہستہ سیکھنے والے طلباء پیچھے رہ جاتے ہیں کیوں کہ کوئی بھی انہیں آگے آنے کا موقع نہیں دینا چاہتا۔ ہاں، وہ اس لیے مسترد کردیے جاتے ہیں کیوں کہ ان کا انگلش کا لہجہ اچھا نہیں ہوتا لہٰذا انہیں مباحثے کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا، یا پھر ان کے ہجے کمزور ہوتے ہیں اس لیے وہ اسپیلنگ بی (Spelling Bee) کے مقابلوں میں حصہ نہیں لے سکتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *