علما کی نا عاقبت اندیشی حکومت کی شرانگیزی

لوک سبھا میں اس بل کی منظوری میں نام نہاد سیکولر پارٹیون کا رویہ بھی کچھ کم حیران کن نہیں تھا کانگرسس نے تو چند گھنٹوں میں اپنا رخ دو تین بار بدلا ویسے بھی لوک سبھا میں بی جے پی کی اکثریت کو دیکھتے ہوئے وہاں سے تو اس بل کو منظور ہو ہی جانا تھا ہاں اگر متحدہ اپوزیشن چاہے تو اس بل کو راجیہ سبھا میں روک کے اسے کم سے کم سلیکٹ کمیٹی میں تو بھجوا ہی سکتا ہے تاکہ اس پر اور سنجیدگی و گہرائی سے غور کر کے سماج پر پڑنے والے اس کے بد اثرات کا ازالہ کیا جا سکے –

لیکن ہم پھر بھی یہی کہیںگے کہ کی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ طلاق بدعت کو ختم کرنے کی جانب ٹھوس قدم اٹھا کے ملت کو ہنہن ملک کو ایک بہت بڑےعذاب سے بچا سکتا ہے جس سے بورڈ کی نیک نامی میں بھی چار چاند لگیںگے اور بورڈ پر عام مسلمان کا عتماد مزید پختہ ہوگا۔

عبید اللہ ناصر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *