علما کی نا عاقبت اندیشی حکومت کی شرانگیزی

لکھنؤ کی ایک سرگرم سماجی کارکن رفعت فاطمہ کا کہنا ہے اگر ایک نشست میں تین طلاق پوری طرح غلط ہے تو پھر سزا کا کیا جواز کیونکہ عورت تو پھر بھی دوراہے پر کھڈی ہو جاےگی بہتر ہوتا حکومت اس معاملہ پر جلد بازی دکھانے کے بجاے وسیع پیمانہ پر تمام فریقوں سے صلاح و مشورہ کرنے کے بعد کوئی قدم اٹھاتی اس طرح جلد بازی دیکھا کے اس نے ثابت کر دیا کہ اسکا مقصد مسلم خواتین کو راحت پہنچانے کے بجاے سیاسی فایدہ اٹھانا ہے.

وہیں صدف جعفر کا کہنا ہےکہ جب جیتے جی پیچھا چھو ڈانا مشکل ہو جاےگا تو عورتیں جلائی جانے لگینگی ہمیں انصاف چاہئے بدلہ نہیں اس قانون کے لئے مہم چلانے والی تنظیم آل انڈیا مسلم ویمن پرسنل لا بورڈ کی صدر شائستہ عنبر نے بھی اس قانون اور اس سزا کی مخالفت کی ہے اور اسے خواتین کے مفاد کے خلاف بتایا ہے _۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *