عید الاضحی کی نماز ایک ساتھ ادا کی، لکھنؤ میں شیعہ سنی فسادات کی جگہ اب شیعہ سنی اتحاد

lucknow-3_eid_shia_sunni_pray_together_in_lucknow_976x549_bbc_nocredit
انڈیا میں تہذیب کا گہوراہ کہلانے والے شہر لکھنؤ سے کبھی شیعہ سنی فسادات کی خبریں آتی تھیں لیکن حالیہ برسوں کے دوران وہاں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔  اس موقعے پر بین مذاہب عید ملن کا پروگرام بھی رکھا گیا

منگل کو لکھنؤ کے قلب میں واقع تاریخی امام بارگاہ شاہ نجف میں شیعہ سنی نے ایک ساتھ عید الاضحی کی نماز ادا کرکے دنیا بھر میں مسلکی کشیدگی کے درمیان اتحاد کا ایک پیغام دیا ہے۔

سنی عالم مولانا قمر عالم کی امامت میں شیعہ مسلک کے سرکردہ عالم دین مولانا کلب صادق کی قیادت میں بڑی تعداد میں شیعہ مسلک کے لوگوں نے نماز ادا کی اور اس موقعے پر بین مذاہب عید ملن کا پروگرامsoulder-to-soulder بھی رکھا گیا۔

عیدالاضحی کی نماز کے لیے سنی امام مولانا قمر عالم نے امامت کی

بین مذاہب اتحاد کے لیے کوشاں تنظیم ’شولڈر ٹو شولڈر‘ کے سیکریٹری عاطف حنیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’موسم کی اٹکھیلیوں کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں امام بارگاہ میں جمع ہوئے اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ شیعہ سنی صلح و آشتی سے رہ سکتے ہیں۔‘

جبکہ شیعہ رہنما اور تنظیم کے ایک عہدیدار سبطین باقری نے ہمیں بتایا: ’گذشتہ سال کے مقابلے ہمیں اس بار دوگنی حمایت ملی اور ایسا لگتا ہے کہ لکھنؤ شہر وہ دھبہ دھونا چاہتا ہے کہ کبھی یہ شہر شیہ سنی فسادات کے لیے جانا جاتا تھا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’اس سے دنیا کے سامنے یہ پیغام گیا ہے کہ شیعہ سنی شانہ سے شانہ ملا کر ایک ساتھ نماز ادا کر سکتے ہیں، ایک ساتھ رہ سکتے ہیں اور کوئی ضرورت نہیں

ہے ایک دوسرے کا خون بہنانے کی۔‘

شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کی غرض سے بقرعید کی نماز تاریخی امام باڑے شاہ نجف میں ادا کی گئي

عاطف حنیف نے بتایا کہ ’چونکہ لکھنؤ ادب اور ثقافت کا مرکز رہا ہے اس لیے ہمارا یہ خیال تھا کہ یہاں سے جو بات نکلتی ہے وہ دنیا بھر میں جاتی ہے اور یہ صرف آج کی ہی بات نہیں بلکہ یہ گذشتہ پانچ سو سال سے ہوتا رہا ہے اور اس کے اثرات ہندوستان میں دیکھے جاتے رہے ہیں۔‘
شولڈر ٹو شولڈر کے فیس بک پر ایک پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہلی کے زور باغ میں شاہ مرداں درگاہ میں شیعہ امام کے پیچھے بہت سے سنی بھائیوں نے نماز ادا کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *