سعودی عرب میں خواتین نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنا شروع کردیا

ڈرائیونگ کی تربیت حاصل کرنے والی ایک 18 سالہ طالبہ سارہ غوث کا کہنا ہے کہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنا عجیب سا لگتا ہے کیونکہ میں آج تک اس سیٹ پر کبھی نہیں بیٹھی۔ اب میں تیزی کےساتھ چیزوں کو سمجھنے لگی ہوں۔ میں گاڑی چلانا اور ہرطرح کی پابندیوں سےآزاد ہونا چاہتی ہوں۔

 

کاریں تیار کرنے والی عالمی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت ملنے سے ان کمپنیوں کو بھی بےپناہ فائدہ ہوگا کیونکہ سعودیہ کہ 20 ملین آبادی میں نصف خواتین ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *