کلکتہ پولیس اور نارکوٹکس بیورو پارٹیوں میں نشیلی اشیاء کے استعمال کو روکنے کیلئے تیار

سریواستو نے کہا کہ نشیلی اشیاء کی سپلائی کا ایک مستقل ایک چین ہے اور کسی کو بھی کسی سے متعلق زیادہ معلومات نہیں ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کالج کے طلباء بھی ڈرگس کا استعمال کرتے ہیں ۔جب کہ کئی طلباء اس چین کا ہوتے ہیں ا ور ان کے ذریعہ خریداروں تک نشیلی اشیاء کو پہنچایا جاتا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ شہر کے کئی پپس اور بارس میں سپلائی ہونے کی اطلاع ہے ۔این سی بی نے حال ہی میں کلکتہ میں اس معاملے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا تھا جس میں منجمنٹ کا ایک طالب اور مشہور پپ کا ڈی جے شامل ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *