کیڑے مار ادویات کا بے تحاشہ استعمال، انسانی صحت کیلئے خطرناک

پاکستان میں اس حوالے سے 2 قانون موجود ہیں ایک ایگریکلچرل پیسٹیسائیڈز آرڈینینس 1971 اور دوسرا ایگریکلچر پیسٹیسائیڈ آرڈینینس رول 1973، پھر بھی پاکستان میں فصلوں پر کیڑے مار ادویات کا بڑے پیمانے پر چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔

 

واضح رہے کہ ایک ریسرچ کے مطابق کیڑے مار ادویات کے اثرات صرف ان فصلوں تک محدود نہیں رہتے جہاں ان کا اسپرے کیا جاتا ہے۔

 

حال ہی میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد اور لینکیسٹر یونیورسٹی انگلینڈ کے اشتراک سے کی جانے والی ایک ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی کہ لاہور کے گردو نواح میں موجود گرد میں بھی کیڑے مار ادویات کے اثرات موجود ہیں، جو رہائیشیوں کی صحت کے لیے خطرناک ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *