ہندوستانی فوج کے سرجیکل اسٹرائیک سے لشکر طیبہ کو ہوا سب سے زیادہ نقصان : رپورٹ

INDIA - 2016/05/27: Indian army personnel patrol near the encounter spot in Kunzer some 30 kilometers from Srinagar the summer capital of Kashmir. Two militants were killed in an encounter with government forces in Kunzer area of Tangmarg .Police said. Clashes also erupted in Kunzer and adjoining areas soon after the dead bodies of two militants were removed from the debris of the house which was destroyed by Indian army by planting explosives during encounter. (Photo by Faisal Khan/Pacific Press/LightRocket via Getty Images)

نئی دہلی : ہندوستانی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول کے پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کئے گئے محدود حملوں میں دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کو سب سے زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا ہے ۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے ریکارڈ کی گئی بات چیت سے سے پتہ چلا ہے کہ لشکر کے تقریبا 20 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
حالیہ سرجیکل اسٹرائیک کی معلومات رکھنے والے ذرائع کے مطابق ہندوستانی فوج کی فیلڈ یونٹوں سے دستیاب رپورٹ میں مختلف پاکستانی تنصیبات کے درمیان ہوئی ریڈیو بات چیت شامل ہے۔ اس بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ شمالی کشمیر کے کپوارہ سیکٹر کے سامنے پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں واقع ددنيال دہشت گرد کیمپ میں لشکر طیبہ کو سب سے زیادہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 28 اور 29 ستمبر کی درمیانی رات کو ہندوستانی فوج نے سرجیکل اسٹرائیک کرکے 700 میٹر کے فاصلے پر ایک پاکستانی چوکی کی پناہ میں واقع دہشت گرد وں کے چار ٹھکانوں کو تباہ کر دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں کو ہندوستانی فوج کی جانب سے کارروائی کی توقع نہیں تھی اور اس وجہ سے وہ حیران رہ گئے۔
رپورٹ کے مطابق جب ہندوستانی فوجیوں نے ان دہشت گردوں کو مارنا شروع کیا ، تو وہ پاکستانی چوکی کی جانب بھاگتے نظر آئے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں کامیاب اسٹرائیک کے بعد ایک مؤثر ریڈیو نگرانی اور سخت چوکسی قائم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے ریڈیو نیٹ ورک سے حاصل پیغامات سے اشارہ ملتا ہے کہ چار دہشت گرد ٹھکانوں پر تقریبا ایک ہی وقت میں سرجیکل اسٹرائیک میں لشکر طیبہ کے کم از کم 10 دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ صبح نمودار ہونے تک وہاں پاکستانی فوج کی گاڑیوں کی کافی ہلچل نظر آئی اور تمام لاشوں کو وہاں سے ہٹا کر دوسری جگہوں لے جایا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ ریڈیو بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ مارے گئے دہشت گردوں کو نیلم وادی میں اجتماعی طور پر دفن کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *