چین نے کھڑی کیں ہندوستان کے لئے مشکلات

برہم پتر کی معاون دریا کا پانی روکا

DOILUNGDEQEN COUNTY, CHINA - DECEMBER 18: (CHINA OUT) A man from Sichuan Province fishes in the Brahmaputra River, by the crossing of the Caihong Railway Bridge along the Qinghai-Tibet railway, in the Liuwu Village where the Lhasa Railway Station, a terminal of the Qinghai-Tibet railway, is located on December 18, 2008 in Doilungdeqen County of Tibet Autonomous Region, China.  The 1,956km Qinghai-Tibet railway crosses high altitudes to link Xining in Qinghai Province to Lhasa in the Tibet Autonomous Region of China.  Employment and wages have been boosted in construction, tourism and service industries in previously remote areas, with decreased transportation costs reducing prices of daily necessities and consumer durables in Tibet.  (Photo by China Photos/Getty Images)

نئی دہلی۔ چین نے ایک بار پھر ہندوستان کے لئے مشکلات کھڑی کرنی شروع کر دی ہیں۔ چین نے اپنے سب سے بڑے منصوبے ہائیڈرو پروجیکٹ کے لئے تبت میں برہمپتر ندی کی ایک معاون ندی کو بند کر دیا ہے۔ چین کے اس اقدام سے ہندوستان کی ریاستوں آسام، سکم اور اروناچل پردیش میں پانی کی فراہمی میں کمی آ سکتی ہے۔ چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ژنہوا نے یہ معلومات دی۔ برہمپتر ندی پر بن رہے چین کے اس ہائیڈرو پروجیکٹ پر تقریبا 7 ہزار 400 کروڑ ڈالر کی لاگت آ رہی ہے۔ اسی کے چلتے چین نے اس ندی کو روک دیا ہے۔
بتا دیں کہ اڑی حملے کے بعد ہندوستان سندھ پانی سمجھوتہ کو منسوخ کرنے پر غور کر رہا ہے۔ وہیں، دوسری طرف چین برہم پتر کی معاون ندیوں کو روک کر ہندوستان کے لئے مشکلات کھڑی کر رہا ہے۔ اگرچہ چین نے ہند۔ پاک کے درمیان جاری کشیدگی کو لے کر کسی ایک کی حمایت نہیں کی ہے اور بات چیت سے معاملہ حل نکالنے کی اپیل کی ہے۔ برہم پتر ندی کا پانی آسام، سکم اور اروناچل پردیش میں پہنچتا ہے۔ ایک معاون ندی کو بند کئے جانے سے ان ریاستوں میں پانی کی فراہمی میں کمی آ سکتی ہے۔ بتا دیں کہ پاکستان دھمکی دے چکا ہے کہ اگر ہندوستان نے دریائے سندھ کا پانی روکا تو وہ چین کے ذریعے برہم پتر ندی کا پانی رکوا دے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *