سونے سے لدی گمشدہ ٹرین کی تلاش کے لیے کھدائی، کھدائی کا کام دس دن تک جاری رہ سکتا ہے

sone se_poland_nazi_train_624x351_afp_nocreditپولینڈ کے جنوب مغربی علاقے میں خزانہ تلاش کرنے والوں نے اس مقام کی کھدائی کا کام شروع کردیا جہاں ان کے خیال میں نازی دور کی چوری شدہ جواہرات اور ہتھیاروں سے لدی ٹرین چھپی ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہے کہ یہ مشہور ٹرین یہاں موجود ہے۔
تاہم پولینڈ کے پیوٹر کوپر اور جرمنی کے اینڈیاس رچر کا کہنا ہے کہ زیر زمین کھوج لگانے والے ریڈار کے تنائج ’خاصے حوصلہ افزا تھے۔‘
ان کا خیال ہے کہ ٹرین سنہ 1945 میں ایک سرنگ میں چھپا دی گئی تھی۔ وہ والبرزچ شہر کے قریب کھدائی کر رہے ہیں جو دس دن تک جاری رہ سکتی ہے۔
خیال رہے کہ دوسری جنگ کے وقت سے یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں لوٹے ہوئے سامان اور اسلحے سے لدی ہوئی ٹرین سرنگوں کے ایک کمپلیکس میں غائب ہوگئی تھی، یہ سرنگیں نازیوں نے ایک خفیہ فوجی منصوبے کے تحت تعمیر کی تھی تاہم یہ منصوبہ کبھی مکمل نہیں ہوسکا۔

جنگ کے دوران نازیوں نے والبرزچ کے قریب کئی میل لمبی سرنگیں تعمیر کی تھیں
اس وقت سوویت ریڈ آرمی نازمی جرمنی کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں۔
جنگ کے دوران نازیوں نے والبرزچ کے قریب کئی میل لمبی سرنگیں تعمیر کی گئی تھیں۔
دوسری جانب کراکوف کی آے جی ایچ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر جنوس میڈج نے دسمبر میں کہا تھا کہ ان کے اس مقام کے ارضیاتی سروے سے ٹرین کی موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
انھوں نے والبرزچ میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’سرنگ ہوسکتی ہے۔ کوئی ٹرین نہیں ہے۔‘
خزانے کی تلاش کرنے والی ٹیم کے ترجمان آندرے گائیک نے منگل کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’ہمیں ایک ریلوے ٹریک مل یا ہے، جو شاید ریلوے سرنگ تک جاتا ہے اور، اگر کوئی سرنگ موجود ہے تو وہاں ٹرین بھی ہونی چاہیے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *