بچوں کی شادی کےخلاف جدوجہد میں ایسوسی ایشن فار ایڈوکیسی اینڈ لیگل انشیٹوس (عالی)، نے یونیسیف سے تعاون مانگا

ڈاکٹر گرديپ سنگھ وائس چانسلر رام منوہر لوہیا یونیورسٹی نے کہا کہ اگر ہمیں اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینكنا ہے تو ہمیں معاشرے کے ہر مذہب کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا. انہوں نے سبھی اسٹیک ہولڈر کو ایک ہوکر کام کرنے کو کہا اور یہ بھی کہا کہ نابالغ بچوں کی شادی روکنے کے لئے ہمیں گاؤں میں سب سے پہلے تعلیم کے چلن کو عام کرنا ہوگا،

16144191_10154064347895163_1569340245_n

ڈاکٹر گرديپ سنگھ کے مطابق انسانی حقوق قوانین کو اور سخت بنا دے گا تبھی ہم کم سن بچوں کی شادی جیسی خوفناک برائی کو جڑ سے ختم کرناہوگا۔

ڈی جی ستاپا سانيال نے اپنے پینل وكتو میں کہا خواتین کے احترام کی خلاف ورزی، یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے مگر اسے کافی نظر انداز کیا جاتا ہے، یہ ایک سماجی مسئلہ ہے اس کے لئے کوئی سخت اقدامات کو نافذ کر خواتین احترام کو ہم کامیاب بنا پائیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم سب معاشرے کے ہر طبقے کو ساتھ لے کر ہی اسے ختم کر سکتے ہیں اور یہ ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے،

16144441_10154064344625163_1133914352_n

آج کل نہ پولیس کا خوف ہے، ہمیں چاہئے کہ سخت قانون نافذ کرکے اس کے کھوئے هوئے وقار کو واپس لائے،

اس موقع پر جوہی سنگھ بال حق کمیشن نے بتایا کہ کمیشن کی توسیع روڈ میپ تیار کر رہا ہے جس میں مختلف چائلڈ دوستانہ کے مسائل پر روشنی ڈالے گا انہوں نے کہا کہ بچے یہاں تک کہ اگر ووٹر نہ ہو مگر بہت سے سیاسی جماعت ان مسائل پر آگاہ ہے اور ان لئے کام کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ اتر پردیش میں بچوں کی شادی کے اعداد و شمار بہت زیادہ ہے اس لئے ہمیں ان پر اور تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے.

16215912_10154064347920163_331726405_n

اس بچے کی شادی مسئلے پر اپنے خیالات رکھتے ہوئے جے سنگھ ایکٹنگ سكرےٹري بیک ورڈ كميشنے نے کہا کہ تعلیم ہی ہمیں اس كريت سے لڑنے کے لئے حوصلہ افزائی کرتی ہے.
جے سنگھ نے بتایا کہ بال کی ترقی کی وزارت کا کہنا تھا کہ یہاں بچے کمزور کلاس میں آتے ہیں اس لئے ان کا استحصال ہوتا هےے انہوں نے کہا کہ بچوں کی شادی پر معاشرے میں عام آدمی کے پاس معلومات بہت کم ہے ان کا مشورہ تھا کہ بچوں کی شادی کے قوانین توسیع سے تشہیر کرنا چاہئے اور انہیں سارے پبلک ٹراسپورٹے اسکول کی کتابوں اور جگہ جگہ سماجی سائٹس پر دینا جانا چاہئے

ڈپٹی ڈاریكٹرے مس پریموتيے ڈپارٹمنٹ آف وومین اینڈ چائلڈ نے بھی تبلیغ پر زور دیا اور کہا کہ بچوں کی شادی کے قوانین کو ہر ذریعے پروپیگنڈے کرنا ضروری ہے،
اسٹیٹ لیگل سروسز اتھورٹي کی جودسنا شرما کا کہنا تھا اگرچہ تبدیلی سست آئے مگر وہ مستقل ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ ہمارا روڈ میپ زمینی هكيكتو کو ساتھ لے کر بننا چاہئے.

ڈاکٹر ارورشي سهانيے سٹڈی ہول فوڈےشن نے اس كلوكيم میں کہا کہ سکول تبدیلی کا بنیادی ذریعہ بن سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ تبدیلی تب تک ممکن نہیں ہے جب تک ہم بچوں کی شادی کی حقیقت کو قبول نہیں کر لیتے اوے ڈنايل موڑ سے واپس نہیں آ جاتے . انقلاب اردو کے پولٹكل ایڈیٹر ڈاکٹر اشواكھ احمد نے میڈیا کے رول کے بارے میں کہا کہ اپنی لےكھنيي اور کیمرے سے ایک شخص بہت کچھ بدل سکتا ہے اور تبدیل بھی چاہتا ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ ان مسائل پر کام کرنے والے سماجی کارکنان ادارے انہیں اپنے ساتھ شامل کریں اوے اس تبدیلی میں ان کا شراکت مانگیں،

گاؤں کنکشن کے منیش کمار مشرا نے بھی میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ وہ اپنے اخبار کی طرف سے اس جولن معاملے پر کام کریں گے.

سچي سنگھ جنرل سکریٹری احساس نے میڈیا والوں سے اپنے اخبارات اور چینلز میں زیادہ جگہ دینے کی بات کی اور مشورہ دیا کہ وہ وقت وقت پر سٹےكهولڈر کی ذمہ داری بھی اكتے رہیں،
آج کے كلوكيم کے پےنلس کا موڈرےشن عالی کے ایگز کیو ٹیو ڈاریكٹر مس رینو مشرا نے کیا. اس موقع پر یونیسیف کے عہدیدار بھی موجود تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *