تاہم جیرڈ کشنر نے وکیل نے ان تمام خبروں کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور جھوٹی قرار دیا اور کہا کہ یہ تمام الزامات کوئی واضح جواب نہیں ہے۔
خیال رہے کہ دی انٹرسیپٹ کی رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک ہفتے قبل وائٹ ہاؤس کی جانب سے جیرڈ کشنر کی اعلیٰ امریکی انٹیلی جنس تک رسائی کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس کو منسوخ کردیا گیا تھا۔
دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات، چین، اسرائیل اور میکسکو کے حکام کی جانب سے نجی طور اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا کہ جیرڈ کشنر سے کس طریقے سے جوڑ توڑ کرسکتے ہیں۔