ان کا کہنا تھا کہ ‘تاحال آسٹرین حکومت کی جانب سے ‘مساجد کی بندش کے خلاف کوئی ٹھوس جواز’ پیش نہیں کیا جا سکا۔
ابراہیم کلیم نے تنقید کی کہ حکومت نے فیڈریشن کو قبل از اعلان اعتماد میں نہیں لیا اور ماہ رمضان کے ممکنہ طور پر آخری جمعے کو مساجد کی بندش اعلان کر دیا۔
صدارتی ترجمان نے واضح کیا کہ ‘مسائل کے حل کے لیے مشترکہ مذاکرات کی ضرورت ہے بجائے یہ کہ مسلم اقلیت کے پس پردہ ان کے خلاف خود ساختہ فیصلہ کرلیا جائے’۔
ویانا کی حکومت نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ 7 مساجد کو 2015 کے قوائد وضوابط کی خلاف ورزی پر بند کیا جا رہا ہے۔