ہردا:مدھیہ پردیش کے ہردا ضلع اسپتال میں اسٹاف نرس کی غلطی کا خمیازہ دو معصوم بچوں کو بھگتنا پڑا۔ڈیوٹی پر تعینات نرس نے ان دونوں بچوں کو دوسرے گروپ کا خون چڑھا دیا جس سے ان کی حالت خراب ہوگئی۔
بتایا جاتا ہے کہ ہرداضلع اسپتال میں کل دس سالہ نیکیتا کو خون کی کمی کی وجہ سے داخل کیا گیا تھا اور چار سالہ آدتیہ پوار کو بھی داخل کیا گیا تھا۔ڈاکٹر نے دونوں کو خون چڑھانے کے لئے کہا تھااسی لئے شام کو ہردا بلڈ بینک سے خون دیا گیا جو نرس کے ذریعہ انہیں چڑھایا گیا۔
نیکیتا کو او پازیٹو خون چڑھایا جانا تھا اور اسے بی پازیٹو چڑھایا گیا جبکہ آدتیہ کو بی پازیٹو چڑھایاجاناتھا اور اسے او پازیٹو چڑھایا گیا۔خون چڑھنے کے کچھ ہی دیر بعد دونوں بچوں کی حالت بگڑنے لگی۔اس کی اطلاع ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو دی گئی۔دونوں بچوں کا علاج اب ہردا اسپتال میں کیا جارہا ہے اور ان کی بگڑتی حالت کے پیش نظر انہیں بھوپال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جارہا ہے ۔
ہردا اسپتال کے سول سرجن ڈاکٹر شریکانت سینگر نے بتایا کہ معاملے کی تفتیش کا حکم دے دیا گیا ہے ۔ایک ٹیم تشکیل کرکے تفتیش کرائی جائے گی۔اس میں جو بھی قصوروار ہوگا اس پر سخت کارروائی ہوگی۔بادی النظر میں ڈیوٹی پرموجود نرس کی لاپرواہی سامنے آئی ہے لیکن پھر بھی جانچ رپورٹ آنے کے بعد ہی کارروائی ہوگی۔فی الحال دونوں بچوں کو بھوپال ریفر کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔
